ہفتہ 13 جون 2026 - 21:21
محرم میں دینی موضوعات کو گہرائی کے ساتھ بیان کیا جائے، نوجوانوں کے سوالات کے واضح جواب دیے جائیں: آیت اللہ فاضل لنکرانی

حوزہ/ قم کے ممتاز استادِ خارجِ فقہ و اصول آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ ماہِ محرم کے خطبات اور مجالس میں دینی مباحث کو سطحی انداز کے بجائے علمی، بنیادی اور گہرے انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات اور شبہات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم کے ممتاز استادِ خارجِ فقہ و اصول آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے کہا ہے کہ ماہِ محرم کے خطبات اور مجالس میں دینی مباحث کو سطحی انداز کے بجائے علمی، بنیادی اور گہرے انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات اور شبہات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

یزد کے دورے کے دوران نمائندۂ ولی فقیہ آیت اللہ محمد رضا ناصری سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم کی مجالس صرف مصائب کے بیان تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ قیامِ امام حسین علیہ السلام کے حقیقی اہداف اور اس کی فکری و دینی بنیادوں کو بھی واضح کیا جانا چاہیے۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا کہ تاریخ میں علماء نے قیامِ امام حسین علیہ السلام کے بارے میں مختلف نظریات پیش کیے ہیں، تاہم ان کے نزدیک اس عظیم تحریک کو ’’دفاعِ اسلام‘‘ کے تناظر میں سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امام حسین علیہ السلام نے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقا کے لیے اپنی جان اور اپنے اہلِ بیت و اصحاب کی قربانیاں پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض افراد قیامِ عاشورا کو صرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عنوان سے بیان کرتے ہیں، لیکن اس عظیم واقعے کے بعض پہلو ایسے ہیں جن کی توضیح اسلام کے دفاع اور دینی اقدار کے تحفظ کے تناظر میں زیادہ بہتر انداز سے کی جا سکتی ہے۔

سربراہ مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم السلام نے فلسطین کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کو اسلامی ذمہ داری قرار دیا اور رہبرِ انقلاب اسلامی بھی اسے عالمِ اسلام کا بنیادی مسئلہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اسرائیل اور امریکہ کی پالیسیوں کے مقابلے میں اسلامی معاشروں کے موقف کی دینی اور فقہی بنیادوں کو عوام کے سامنے واضح کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ محرم کی مجالس میں نوجوانوں کے اس سوال کا مدلل جواب دیا جائے کہ اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت کی شرعی بنیاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خطباء اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ عاشورا کے پیغام، دین کے دفاع کی اہمیت اور امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانیوں کو مؤثر انداز میں بیان کریں تاکہ معاشرے میں دینی شعور اور بصیرت میں اضافہ ہو۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے آخر میں کہا کہ ہر سال محرم کے موقع پر نہضتِ عاشورا کے نئے فکری اور تربیتی پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا چاہیے، کیونکہ دین اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے عوامی بیداری اور شعور انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha